5 مارچ 2011 - 20:30

امریکہ کی تاریخ قتل و غارت گری سے بھری پڑی ہے جہاں اس نے امریکہ کے اصل باشندوں ریڈ انڈینز کا وحشیانہ قتل عام کر کے اپنے قیام کا راستہ ہموار کیا وہیں اس نے اب تک دوسرے ملکوں میں بھی انسانیت کے خلاف بےپناہ جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور اب اس نے اپنا رخ عالم اسلام کی طرف پھیر لیا ہے اور افغانستان اور عراق میں خون کی ندیاں بہانے کے بعد وہ دوسرے مسلمان ملکوں کو خونی نظروں سے دیکھ رہا ہے۔

ابنا: افغانستان میں امریکہ کی سرکردگي میں نیٹو افواج آئے دن بے گناہ افغان عوام کا خون بہاتی دکھائي دیتی ہیں اور حال ہی میں افغانستان کے صوبہ کنڑ میں امریکہ اور نیٹو افواج نے بمباری کر کے عورتوں اور بچوں سمیت اسی سے زائد بے گناہ افراد کو خاک و خون میں غلطاں کر دیا۔ جس پر افغان عوام میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے جبکہ امریکی صدر باراک اوباما اور افغانستان میں تعینات غیرملکی فورسز کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے اس پر صرف افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں اہم ترین بات مغربی ذرائع ابلاغ اور انسانی حقوق کے دعویدار نام نہاد اداروں کی مکمل خاموشی ہے۔ ان اداروں نے انسانی حقوق کے دفاع کو اپنے ایجنڈے میں سرفہرست قرار دے رکھا ہے لیکن دنیا شاہد ہے کہ انہوں نے افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کے فوجیوں کی انسانیت مخالف کارروائیوں پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ان حالات میں افغان عوام اس بات کی توقع رکھتے ہیں کہ اقوام متحدہ ایک ٹھوس موقف اختیار کر کے دنیا والوں کو افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کے مظالم سے آگاہ کرے گی۔ افغانستان کے امور میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی خصوصی ایلچی رادھیکا کمارا سوامی نے افغانستان میں امریکی اور نیٹو فورسز کے ہاتھوں بے گناہ عوام کے قتل عام کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب افغانستان اور پاکستان کے امور میں امریکہ کے خصوصی ایلچی مارک گراس مین نے افغانستان میں قیام امن کے لیے دونوں ملکوں کے حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے امن مذاکرات کا راستہ بھی اختیار کرنا چاہیے۔ اس بات میں کوئي شک و شبہ نہیں کہ افغانستان میں بدامنی نے پاکستان کے امن پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اور وہ پاکستان جو اسی کی دہائی سے قبل ایک پرامن ملک سمجھا جاتا تھا افغان جنگ اور اس وقت کی پاکستانی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے اسلحے اور منشیات کا گڑھ بن گيا اور اب پاکستانی قوم نام نہاد مجاہدین کی حمایت اور غلط پالیسیوں کا خمیازہ بھگت رہی ہے اور اب بھی پاکستان میں کچھ حلقے ان دہشت گردوں کو اپنا اسٹریٹجک اثاثہ سمجھتے ہیں۔ یہی اثاثہ جتنا نقصان پاکستان کو پہنچا چکا ہے اتنا اس کے کسی دشمن نے اسے نہیں پہنچایا ہے اور اب وقت آ گیا ہے پاکستانی عوام بیرونی دشمنوں کے ساتھ ساتھ اپنے اندرونی دشمنوں کو بھی پہچانیں اور ان کے خلاف صف آرا ہو کر اپنے ملک کو ان داخلی دشمنوں سے بچائیں کہ جنہوں نے پوری دنیا میں پاکستان کا امیج تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110